قربانی تو ہو گئی؛ مگر “میں” رہ گئی

حوزہ/ عید گزر گئی۔ قربان گاہیں آباد ہوئیں، چھریاں چلیں، جانور ذبح ہوئے، تکبیروں کی صدائیں بلند ہوئیں، گوشت تقسیم ہوا، تصاویر بنیں، مبارک بادوں کا تبادلہ ہوا، اور یوں ایک اور عید قربان اپنے ظاہری مظاہر کے ساتھ رخصت ہو گئی۔ مگر ایک سوال اب بھی فضاؤں میں معلق ہے… کیا واقعی قربانی ہو گئی؟

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| عید گزر گئی۔ قربان گاہیں آباد ہوئیں، چھریاں چلیں، جانور ذبح ہوئے، تکبیروں کی صدائیں بلند ہوئیں، گوشت تقسیم ہوا، تصاویر بنیں، مبارک بادوں کا تبادلہ ہوا، اور یوں ایک اور عید قربان اپنے ظاہری مظاہر کے ساتھ رخصت ہو گئی۔ مگر ایک سوال اب بھی فضاؤں میں معلق ہے… کیا واقعی قربانی ہو گئی؟

اگر قربانی ہو گئی تو پھر گھروں میں جھگڑے کیوں باقی ہیں؟ رشتوں میں تلخیاں کیوں زندہ ہیں؟ مساجد میں فرقہ واریت کیوں موجود ہے؟ منبروں پر انا کی جنگ کیوں جاری ہے؟ سیاست میں تکبر کیوں سلامت ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کے دل میں بیٹھا ہوا “میں” کا بت کیوں اب تک قائم ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ قربان گاہ میں جانور تو ذبح ہوا، مگر بہت سے دلوں میں انا زندہ رہی۔ وہی انا جس نے ابلیس کو سجدے سے روکا تھا۔ قرآن کہتا ہے: ﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾ “میں اس سے بہتر ہوں۔” (سورۂ اعراف: 12) تاریخِ انسانیت میں سب سے پہلا گناہ یہی “میں” تھا۔ ابلیس نے شراب نہیں پی تھی، چوری نہیں کی تھی، قتل نہیں کیا تھا؛ صرف ایک “میں” بولی تھی، اور یہی “میں” اسے بارگاہِ الٰہی سے ہمیشہ کے لیے مردود کر گئی۔ افسوس کہ آج بھی یہی “میں” مختلف چہروں میں زندہ ہے۔ کبھی عالم کی شکل میں، کبھی سیاست دان کی صورت میں، کبھی دولت مند کے لباس میں، کبھی عبادت گزار کے حلیے میں، اور کبھی عام انسان کے روزمرہ رویّوں میں۔ یہی “میں” ہے جو کہتی ہے: میری بات ہی درست ہے، میرا مسلک ہی حق ہے، میرا خاندان ہی بہتر ہے، میری رائے ہی آخری ہے، میری عزت سب سے اہم ہے۔ اور جب “میں” بڑی ہو جاتی ہے تو پھر انسان کے دل و دماغ میں اللہ چھوٹا ہو جاتا ہے، حالانکہ بندگی کا آغاز “میں” کے خاتمے سے ہوتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دراصل اسی “میں” کے خلاف اعلانِ جنگ تھی۔ انہوں نے اپنی خواہش قربان کی، اپنی محبت قربان کی، اپنی تمنا قربان کی، یہاں تک کہ اپنی پدری شفقت کو بھی حکمِ خدا کے سامنے جھکا دیا۔ اسی لیے قرآن نے انہیں “خلیل اللہ” بنایا۔ عید قربان کا پیغام جانور کے خون سے زیادہ نفس کے خون کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے: ﴿لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ﴾ “اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (الحج: 37) گویا اللہ قربانی کے جانور نہیں گن رہا، وہ دلوں کی کیفیت دیکھ رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ چھری جانور کے گلے پر چلی یا نفس کے غرور پر؟

جانور ذبح ہوا یا تکبر؟

خون بہا یا حسد؟

قربانی ہوئی یا صرف رسم ادا ہوئی؟

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “أصلُ العُجبِ حُبُّ النَّفس” “خود پسندی کی جڑ اپنے نفس سے حد سے زیادہ محبت ہے۔” یہی وہ بیماری ہے جس نے گھروں کو تباہ کیا، خاندانوں کو توڑا، معاشروں کو تقسیم کیا اور حق کو باطل کے پردوں میں چھپا دیا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “ما مِنْ شَيْءٍ أَفْسَدَ لِلْقَلْبِ مِنَ الْكِبْرِ” “تکبر سے زیادہ کوئی چیز دل کو خراب نہیں کرتی۔” آج انسان چاند تک پہنچ گیا ہے مگر اپنے نفس تک نہیں پہنچ سکا۔ اس نے سمندروں کی گہرائیاں ناپ لیں مگر اپنے دل کی تاریکیاں نہ ناپ سکا۔ اس نے مصنوعی ذہانت بنا لی مگر اپنی انا کو شکست نہ دے سکا۔ اس نے دنیا فتح کر لی مگر خود کو ہار گیا۔ شاید اسی لیے آج سب کچھ ہونے کے باوجود سکون نہیں ہے۔

عید قربان کا اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے فرعون کو قتل کرے۔ اس فرعون کا نام دولت بھی ہو سکتا ہے، شہرت بھی، اقتدار بھی، علم بھی، عبادت بھی، اور کبھی کبھی مذہب بھی۔ کیونکہ جب کوئی چیز انسان کو اللہ کے بجائے اپنی طرف متوجہ کرنے لگے تو وہی اس کا بت بن جاتی ہے۔ قربانی کا حقیقی جشن اُس دن ہوگا جب انسان اپنے دل سے یہ جملہ نکال دے: “میں” اور اس کی جگہ صرف یہ کہے: “یا اللہ! جو تو چاہے وہی بہتر ہے۔” جس دن یہ تبدیلی آ گئی، اسی دن قربانی مکمل ہو جائے گی۔ ورنہ جانور تو ہر سال قربان ہوتے رہیں گے، مگر انسان کے اندر بیٹھی ہوئی “میں” ہر سال زندہ بچ نکلے گی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے کربلا کا درس شروع ہوتا ہے۔ اگر ابراہیمؑ نے “میں” کو قربان کرنے کا سبق دیا تو امام حسین علیہ السلام نے اس سبق کو تاریخ کے سینے پر ہمیشہ کے لیے نقش کر دیا۔ کربلا دراصل انا کے مقابل بندگی، خواہش کے مقابل رضا، اور نفس کے مقابل حق کا معرکہ تھا۔ ایک طرف یزید کی “میں” تھی جو اقتدار، غرور اور جبر کی علامت بن چکی تھی، اور دوسری طرف حسینؑ تھے جنہوں نے اپنا گھر، خاندان، اصحاب، جوان بیٹے، شیر خوار بچہ اور اپنی جان تک راہِ خدا میں پیش کر دی، مگر اپنی بندگی کو “میں” کے سامنے جھکنے نہ دیا۔

امام حسین علیہ السلام کا یہ جملہ رہتی دنیا تک قربانی کی تفسیر کرتا رہے گا: “إلهي رضاً برضاك وتسليماً لأمرك”۔ پروردگار! میں تیری رضا پر راضی ہوں اور تیرے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ یہی وہ روح ہے جو عید قربان کو محض ایک تہوار سے اٹھا کر ایک دائمی تربیت گاہ بنا دیتی ہے۔ قربانی صرف ایک دن کا عمل نہیں بلکہ پوری زندگی کا سفر ہے۔ انسان ہر روز اپنے نفس، اپنی خواہشات، اپنے غصے، اپنی ضد، اپنے تکبر اور اپنی خود پسندی کے خلاف قربانی دیتا ہے، تب جا کر وہ قربانی کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔

قرآن مجید بار بار انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ ﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا﴾ “زمین پر اکڑ کر مت چلو۔” (بنی اسرائیل: 37) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ “بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔” (لقمان: 18) گویا اللہ کی محبت کا راستہ عاجزی سے گزرتا ہے اور تکبر انسان کو خدا کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: “لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر” یعنی جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا۔ یہ احادیث ہمیں متوجہ کرتی ہیں کہ اصل خطرہ باہر کے دشمن سے نہیں بلکہ اندر کے دشمن سے ہے۔ وہ دشمن جو ہمارے ساتھ سوتا ہے، ہمارے ساتھ جاگتا ہے، ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہمیں یہ یقین دلاتا رہتا ہے کہ ہم دوسروں سے بہتر ہیں۔

آج کا انسان اسی “میں” کا اسیر بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر نمائش کی دوڑ ہو، مذہبی حلقوں میں برتری کی جنگ ہو، سیاسی میدان میں اقتدار کی کشمکش ہو یا گھریلو زندگی میں ضد اور انا کے معرکے، ہر طرف ایک ہی بت کی پرستش نظر آتی ہے، اور اس بت کا نام “میں” ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم بت خانوں کے بت تو توڑ دیتے ہیں مگر اپنے نفس کے بت کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔

اگر قربانی کے بعد بھی انسان معاف کرنا نہ سیکھ سکے، اگر اس کے دل سے نفرت کم نہ ہو، اگر اس کے لہجے میں نرمی پیدا نہ ہو، اگر اس کی زندگی میں عاجزی نہ آئے، اگر وہ غریب، یتیم، مسکین اور کمزور انسان کے درد کو محسوس نہ کر سکے، تو پھر قربانی کے ظاہری آثار تو موجود ہیں مگر اس کی روح ابھی پیدا نہیں ہوئی۔

آج امتِ مسلمہ کو جانوروں کی قربانی سے زیادہ انا کی قربانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے مسلکی تعصبات، سیاسی نفرتوں، گروہی برتریوں اور شخصی غرور کو قربان کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا انسان وہ نہیں جو سب سے زیادہ طاقتور ہے، بلکہ وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی، سب سے زیادہ منکسر المزاج اور سب سے زیادہ خدا شناس ہے۔

پس عید قربان کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: جانور تو ذبح ہو گیا، لیکن کیا ہماری “میں” بھی ذبح ہوئی؟

اگر جواب نفی میں ہے تو قربانی کا سفر ابھی باقی ہے۔ اور اگر انسان اپنی انا کے اس بت کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا تو یقیناً اس نے ابراہیمؑ کی سنت، حسینؑ کے پیغام اور قرآن کے مقصد کو پا لیا۔ یہی قربانی کی معراج ہے، یہی بندگی کی انتہا ہے، اور یہی انسانیت کی حقیقی کامیابی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha